ہمارے گاوں میں پہلے دیواریں پتھر جوڑ کر بنائی جاتی تھیں. اب پتھر بھی کم ہوگئے اور پتھر جوڑ کر اس کی دیوار کھڑی کرنے والے کاریگر بھی کم ہی ہیں. اس لئے اکثریت اینٹوں سے اب دیواریں کھڑی کرتی ہے. ہر اینٹ کا سائز اور شکل یکساں ہوتی ہے. پتھر لیکن اپنی الگ الگ منفرد شکلوں سائز میں ہوتے تھے تو پتھر کی دیوار کھڑی کرنے والا کاریگر ہر مقام کیلئے موزوں پتھر ڈھونڈ کر جوڑتا تھا. بہرحال اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پتھروں کی کھڑی دیواریں بہت مضبوط اور مستحکم کمال ہوتی تھیں. آج بھی جہاں یہ قدیم دیواریں کھڑی ہیں اپنی تعمیر سے بتا دیتی ہیں ہم پر بہت محنت ہوئی ہے. ہم جلد ہار ماننے والی نہیں ہیں. دوسروں کے طعنے طنز اور توہین آمیز تنقید بھی بندے کو خود پر برستے پتھر ہی لگتے ہیں. جیسے حج میں شیطان پر کنکریاں برساتے اکثریت حاجیوں کو وہ مقصد معلوم نہیں ہوتا جو یہ کنکر برسا کر حاصل کرنا ہوتا ہے بلکل ایسے ہی آپ کے آس پاس بہت سے کردار ہوتے ہیں جو ثواب سمجھ کر دوسروں کی ذات پر لفظوں کی سنگ باری کرتے ہیں. آپ نے اگر ان کو سیریس لیا تو آپ کی ذات زخم زخم ہو جاتی ہے. آپ بلکہ ان کے پھینکے پتھ...