اشاعتیں

خون کے رشتے خون کے ہوتے ہیں۔

تصویر
 کہتے ہیں کہ ایک دن گاؤں کے  کنوئیں پہ عجیب ماجرا ھوا کہ جو ڈول بھی کنوئیں میں ڈالا جاتا واپس نہ آتا جبکہ رسی واپس آ جا تی ، سارے لوگ خوفزدہ ھو گئے کہ اندر ضرور کوئی جن جنات ھے جو یہ حرکت کرتا ھے ،  آخر اعلان کیا گیا کہ جو بندہ اس راز کا پتہ لگائے گا اس کو انعام دیا جائے گا ،، ایک آدمی نے کہا کہ اس کو انعام کی کوئی ضرورت نہیں مگر وہ گاؤں والوں کی مصیبت کے ازالے کے لئے یہ قربانی دینے کو تیار ھے مگر ایک شرط پر ،،  شرط یہ ہے کہ میں کنوئیں میں اسی صورت اتروں گا جب رسا پکڑنے والوں میں میرا بھائی بھی شامل ھو ،، اس کے بھائی کو بلایا گیا اور رسہ پکڑنے والوں نے رسا پکڑا اور ایک ڈول میں بٹھا کر اس بندے کو کنوئیں میں اتار دیا گیا ، اس بندے نے دیکھا کہ کنوئیں میں ایک مچھندر قسم کا بندر بیٹھا ھوا ھے جو ڈول سے فورا رسی کھول دیتا ہے ،،  اس بندے نے اپنی جیب کو چیک کیا تو اسے گڑ مل گیا ،، اس نے وہ گڑ اس بندر کو دیا یوں بندر اس  سے مانوس ھو گیا ، بندے نے اس بندر کو کندھے پر بٹھایا اور نیچے سے زور زور سے رسہ ہلایا ،،  گاؤں والوں نے رسا کھینچنا شروع کیا اور جونہی ڈول اندھ...

State art competition 2

 https://youtu.be/3fRQx6x9rcs?si=SIKNOI-e_1oVGME0 Taj mahal  https://youtu.be/kvWUXL2V9q8?si=QLonNMCA8szkuX8f Qutub minaar https://youtu.be/m_z3z5doHDQ?si=G9lwn5TDKR0BeC6Y Red fort https://youtu.be/1on5ZHTMNVk?si=vvE9T07R5nMbf_V_ Gol Gumbad https://youtu.be/9b4KJ70E9kg?si=et7Q8sdSqgYOpCS3 Jama masjid Delhi https://youtu.be/yOVW1EL_KKE?si=99YZKsezP5JSTqe4 Char minar

State art competition

تصویر
 

کے اردو گرلز ہائی اسکول اور جونیئر کالج میں بین الاقوامی یوگا دن منایا گیا۔

تصویر
 کے کے اردو گرلز ہائی اسکول اور جونیئر کالج میں بین الاقوامی یوگا دن منایا گیا۔  انجمن خدمت خلق جلگاؤں کے زیر انتظام کے کے اردو گرلز ہائی اسکول اور ڈاکٹر شاہین قاضی جونیئر کالج میں بین الاقوامی یوگا دن منایا گیا، اس موقع پر پرنسپل تنویر جہاں شیخ نے یوگا دن کا تعارف کرایا اور بتایا کہ یوگا کے آسن کس طرح جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند رہنے کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ اس موقع پر 477 طلباء اور 19 اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ موجود تھا۔استادنی اسماء شیخ نے طالبات کو مختلف یوگا کے آسن کروائے ۔اس پروگرام کو استانیاں شکیلہ شیخ، جمیلہ خان، نازیہ شیخ، نسرین قادری اور استاذ شاہ ذاکر، مظہر شیخ اور تبریز شیخ نے کامیابی کے لیے سخت محنت کی۔ x

کے کے اردو گرلز ہائی اسکول کا ہر سال کی طرح امسال بھی 100 فیصد نتیجہ

تصویر
اعلی تعلیم و عمدہ ادب کو اپنا مقصد حیات بنائیں"   الحاج ڈاکٹر امان اللہ شاہ صاحب کے کے اردو گرلز ہائی اسکول کا ہر سال کی طرح امسال بھی 100 فی صد نتیجہ جلگاؤں (شمس تنریز ) انجمن خدمت خلق کے زیر انصرام شہر عزیز کا پرانہ اور واحد لڑکیوں کا  کے۔ کے۔ اردو گرلز ہائی اسکول کی طالبات نے ہر سال کی طرح امسال بھی جماعت دہم کے سالانہ امتحان میں 100 فی صد شاندار نتیجہ حاصل کیا۔ جس میں اول مقام خان زنیرہ شاہد  %86۰60 سے آئی  تو وہی دوم مقام پر تانبولی خنساء مرسلین  نے  %86 حاصل کیں۔ اور سوم مقام شیخ عربینہ حفیظ نے %84.20  حاصل کر کے ادارےکا اور اپنے والدین کا نام روشن کیا۔اس عمدہ کامیابی میں جملہ اساتذہ اکرام کی محنتیں شامل رہیں۔ ادارے کے صدر عزت مآب الحاج ڈاکٹر امان اللہ شاہ نے کامیاب ہوئی طالبات کو مبارکباد و دعائیہ کلمات کے ساتھ  پیغام دیا کہ اعلی تعلیم اور عمدہ اخلاق کو اپنا پیکر بنائیں زندگی کا مقصد بنائیں اور اس بات کو اپنے  ذہن میں پیوست کرلیں۔ مزید اراکین انجمن ، صدر معلمہ تنویر جہاں شیخ صاحبہ ، جملہ تدریسی و غیر تدریسی عملہ نے بہت ساری دعاؤں ...

لباس خراب ہو جاے تو بھرے بازار نہیں اتارا جاتا

 آج كھانا تم بناؤ گی ، جس نے پانی کا گلاس اٹھ کے کبھی نہیں پیا تھا ، اسے میری ماں نے حکم دیا .وہ اٹھی ، جیسے تیسے کر کے 3 ، 4 گھنٹے لگائے اور كھانا بنایا مگر نمک مرچ اس ٹیسٹ کے مطابق نہیں تھے۔ جسے پرفیکٹ کہا جاتا ہے . اِس لیے كھانا گھر کے کسی فرد نے نہیں کھایا اور طنز کیا " اپنی ماں کے گھر سے یہ سیکھ کے آئی ہو" ؟ میں 8 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بَعْد گھر آیا ، ابھی بیگ گھر نہیں رکھا تھا کہ میری ماں کہنے لگی " ہم تو صبح سے بھوکے بیٹھے ہیں ، کچھ بازار سے لا دو كھانے کے لیئے " .  میں نے ایک نظر اپنی سہمی ہوئے بِیوِی پہ ڈالی اور مارکیٹ چلا گیا .كھانا لے کر آیا تو سب کھانے لگے میں نے اپنی بیگم کا بازو پکڑا اور کچن میں لے گیا ، کیا پکایا ہے آج ؟  اس نے آنسو آنکھوں میں ہی کہیں روکے ہوئے تھے ، میری بات سن کر مسکرا دی .باقی سب کی طرح تم بازار والا كھانا نہیں کھاؤ گے ؟ ؟ نہیں ، مجھے تو اپنی بیوی کے ہاتھ کا بنا كھانا پسند ہے اس نے کچن میں میرے لیئے كھانا لگا دیا .  جب میں نے چکھا تو اتنا بھی بد ذائقہ نہیں تھا کہ کھایا نا جاتا  مگر اسے اتنا مارجن ہی نہیں دیاگیا کہ وہ اپنی غلطی ٹھیک...

دلوں کے بھید صرف اللہ جانتا ہے۔

تصویر
 ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯿﺲ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺧﺒر  ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ.  ﺍﮎ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﺷﮩﺮ  ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭼﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﮔﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ.  ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ. ﻟﻮﮒ ﺍﺱ  ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ  ﺩﯼ ﻟﯿﮑﻦ ﻟﻮﮒ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻧﮧ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ  ﮨﮯ؟  ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﺳﮑﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ؟ ﻟﻮﮔﻮﮞ  ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑُﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﮯ. ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ :  ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﻣﺖ ﺭﺳﻮﻝؑ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﻻﺵ  ﺍﭨﮭﺎﮐﺮ ﺍﺳﮑﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯼ _ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ  ﻻﺵ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﻭﺯﯾﺮ ﻭﮨﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ  ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺳﻨﺘﮯ ﺭﮨﮯ . ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﯽ  ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺍﻟﻠّﻪ ﮐﺎ ﻭﻟﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ۔  ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﻌﺠﺐ ﮨﻮﺍ، ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ  ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﻮﮒ ﺗﻮ ﺍﺱﮐﯽ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ  ﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﺗﮭﯽ۔ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ...